News 10 August 2018 cp ,iso

ڈی آئی خان، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث سہولت کاروں کو بینقاب کیا جائے ،مرکزی صدر کی پریس کانفرنس

Rate this item
(0 votes)

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدرانصر مہدی نے ڈی آئی خان میں گزشتہ دنوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بار پھر سے محب وطن پاکستانیوں کو نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔

ڈی آئی خان کے حالات پولیس انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں، دہشت گرد علاقے میں آزادانہ وارداتیں کرتے پھر رہے ہیں، گذشتہ چند دنوں میں خود پولیس اور انتظامیہ سمیت کئی شہری ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں، صوبہ میں حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آ رہی،دہشت گردی کے یہ واقعات کوئی نئے نہیں ہیں اگر گزشتہ واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو ثبوت بناتے ہوئے کارروائی کی جاتی تو دہشتگردوں اور سہولتکاروں کو بینقاب کیا جاسکتا تھا۔

مرکزی صدر نے کہا سپریم کورٹ کے سوموٹو ایکشن کے باوجود ہر دوسرے دن ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سوالیہ نشان ہیں، حالیہ الیکشن میں کالعدم جماعتوں کے افراد کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی اور ڈی آئی خان میں سمیت ملک کے دیگر مقامات پر دہشتگردی کے ہولناک واقعات ہوئے ہم یہ سمجھتے ہیںکالعدم جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے والے مجرم ہیں۔

مرکزی صدر انصر مہدی نے کہا کہ ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر سپریم کورٹ کے سوموٹو ایکشن پر آئی جی خیبر پختونخوا کی پیش کردہ رپورٹ سے واضع ہوچکا ہے کہ ڈی آئی خان میں ہونے والی دہشت گردی میں خود پولیس اور انتظامیہ کی کالی بھیڑیں بھی سہولت کار ہیں، ایسی صورت حال میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے، جب امن قائم کرنے کے ذمہ دار ادارے پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں، کچھ لوگ اب بھی دہشت گردوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے لابنگ اور پلان جاری کر رہے ہیں، ان کی یہ کوششیں اسی ہزار پاکستانی شہدا کے لہو سے غداری کے مترادف ہے۔

مرکزی صدر نے کہا ڈی آئی خان میں فرقہ وارانہ کلنگ کے باعث بیسیوں افرادکئی علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں، مقامی انتظامیہ اور پولیس ہر ٹارگٹ کلنگ پر دلاسے تسلیاں دیتے ہیں، مگر دوسرے روز ہی پھر ٹارگٹ کلنگ کی واردات ہوجاتی ہے، ابھی تک کوئی ایک قاتل دہشتگرد پکڑا نہیں جا سکا ہے، پولیس انتظامیہ دہشگردوں کے سامنے بے بس اور تماشائی بنی ہوئی ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک بھر میں ان پر ہونے والے ظلم اور انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف احتجاج کریں گے۔ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ڈی آئی خان میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ واقعات میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے تاکہ شہدا کے ورثا کی دادرسی کی جاسکے۔

Read 48 times
Last modified on 10 August 2018

Picture Gallery